اوریا مقبول جان صاحب کیلیئے بصد احترام کے ساتھ

محترم اوریا مقبول جان صاحب کی سیکولرازم سے نفرت کافی جانی مانی ہے۔ جناب کی آدھی نہیں تو زندگی کا بیشتر حصہ تو سیکولرازم کی لادینیت سے مشابہت میں گزار چکے ہیں۔ کتنے ہی کالم اور تبصرے اس موضوع پر تحریر کرچکے، لیکن مجال ہے جو سادہ عوام کو گمراہ کرنے سے چوک جائیں۔ یہ تحریر اوریا صاحب کے کالم باعنوان سیکولرازم کا اصل چہرہ یہی ہے کے جواب میں تحریر کررہا ہوں، جو کہ 6 نومبر کو ایکسپریس اخبار کی زینت بنا۔

حضرت سیکولرازم کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ سیکولرازم کے داعی اپنا نقطہ نظز نافظ کرنے کی غرض سے ناحق انسانی خون بہاتے رہے، آگے مسلم ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کہ کس طرح سیکولرحکمران اس ضمن میں ظلم کی انتہا کو پہنچ گئے۔ چلئے مان لیجئے کے یہ سیکولر حکمران ظالم تھے، لیکن حضور یہ بھی تو فرمایئے کے ماضی بعید میں جو قدامت پسند مسلمان حکمران گزرے ہیں، انہوں نے کیسے کیسے کرشمے دیکھائے۔ خلافت امیّہ سے لیکر عثمانیہ خلافت تک مسلمانوں کی تاریخ جنگ و جدل، غداری، تشدّد اور اقرباپروری سے بھری پڑی ہے۔ دین کے نام پر کیئے جانے والے مظالم کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ۔ یہودی ہوں، عیسائی ہوں یا مسلمان، سب نے اس تاریخ میں اپنے اپنے ظلم کے باب نقش کئے ہیں۔ اسپین کی نامعروف انکویزیشن کو لے لیجیئے یہ پھر خلافت راشدہ کے بعد طاقت کہ حصول کی خاطر لگائے گئے کفر و ارتداد کے فتوے۔ فہرست کافی لمبی ہے، آگے بڑھیئے تو جناب عزّت معاب سیکولر مظالم کا ایک جغرافیہ کھینچتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ دنیا میں ہر سیکولر ملک میں گویا مظالم ہی ڈھائے جارہے ہیں۔ اوّل تو اوریا صاحب نے بات ہی بھارت سے شروع کی، سیکولرازم کی اندھی نفرت میں یہ بھول گئے کے بھارت میں حال ہی میں ہونے والے مظالم سیکولرازم کے نام پر نہیں بلکہ ہندو متھ کہ نام پر برپا کیئے گئے۔ یہ تو بھارت کی وہ چند سیکولر آوازیں ہیں جنہوں نے ان مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔

اوریا صاحب کی سیکولرازم سے نفرت اسقدر شدید ہے کے اپنی تحریر کی روانی میں ایک انتہا پسند عیسائی کو بھی سیکولر لکھ گئے۔ جی حضور، ہٹلر کوئی عام عیسائی نہیں تھا، اپنے آپ کو خداوند کا دست بازو کہنے والا، خدا سے مدد گرداننے والا اور یہاں تک کے خداوند کے کام میں مدد کرنے والا یہ وہی ہٹلر تھا جس کی فوج کی پیٹی کے بکّل پر یہ الفاظ کندو تھے، خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ تاریخ کو مسخ کرنے کی حضرت نے یہ پہلی کوشش نہیں کی، اپنی تحریروں میں پہلے بھی تاریخ کا جنازہ نکال چکے ہیں۔

اگر تو جناب سیکولرازم اتنا ہی برا ہے، تو خدارا کینیڈا، امریکا، یورپ، چین، جاپان جیسے ممالک کو مخاطب کیجیے اور ان ممالک کے حکمرانوں کو درخواست کیجیئے کہ ان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو دوسرے اور تیسرے درجے کی شہریت سے نوازیں۔ ان حکمرانوں کو بتایئے کس طرح وہ اپنے دین سے دوری اختیار کرکے جہنّم رسید ہوںگے۔

بنا سوچے سمجھے نفرت پالنا بھلا کہاں کی دانشواری ہے؟ اوریا صاحب ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیئے، سیکولرازم ھر گز لادینیت نہیں۔ بلکہ دین پر کسی ریاست کے اختیار کو نہ ماننے کا نام ہے۔ دین میں جبر کی تو خود اللہ تعالی نے بھی ممانعت کی ہے۔ اسی لیئے اسلام میں چرچ جیسا کوئی اداراہ نہیں۔ اگر کسی بھی ادارے کے سپرد دین کی تشریح کا کام دے دیں تو بہت جلد یہ انتظام عیسائی چرچ سے مشابہ بن جائے گا، جس کی دین میں کوئی جگہ نہیں۔

Advertisements

About Hasan
A Muslim with a slightly different perspective. A student of history, theology and science.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: